Advertisement
موضوع: کیا صرف "قرآن و حدیث" کا نعرہ کافی ہے؟**تمہید:*
آج ایک نیا فتنہ عام ہو رہا ہے کہ کہا جاتا ہے "ہم صرف قرآن و حدیث کو مانتے ہیں، باقی کسی امام، فقہ، مذاہب کو نہیں مانتے"۔ بظاہر یہ جملہ بڑا خوبصورت لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ امت کو گمراہ کرنے والا نعرہ ہے۔
*پہلی دلیل: قرآن خود اہلِ علم کی طرف بھیجتا ہے*
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
*"فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ" (النحل: 43)*
اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھو۔
اگر ہر آدمی خود قرآن و حدیث سے مسئلہ نکال سکتا تو اللہ یہ کیوں فرماتا کہ اہلِ علم سے پوچھو؟ اس آیت سے ثابت ہوا کہ قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لیے ایک واسطہ، ایک استاد، ایک فہم ضروری ہے۔
*دوسری دلیل: حدیث کا فہم ہر ایک کے بس کی بات نہیں*
نبی ﷺ کے زمانے میں صحابہ کرامؓ بھی ہر حدیث کو خود نہیں سمجھتے تھے، وہ بڑے صحابہ سے پوچھتے تھے۔ خود حضرت عمرؓ فرماتے تھے کہ ہم قرآن کی آیات کا مطلب حضرت ابوبکرؓ سے پوچھا کرتے تھے۔
آج ایک عام آدمی جس کو عربی نحو، صرف، اصولِ فقہ، ناسخ منسوخ، شانِ نزول کا علم ہی نہیں، وہ کیسے دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں خود قرآن و حدیث سے فیصلہ کر لوں گا؟
*تیسری دلیل: ائمہ کرام کون ہیں؟*
ائمہ کرام وہ "پکی کڑی" ہیں جو نبی ﷺ اور ہمارے درمیان ہیں۔
- *امام ابو حنیفہؒ:* آپ نے 7 صحابہ کرامؓ کی زیارت کی، آپ تابعی ہیں۔ آپ نے جیل میں کوڑے کھائے لیکن حق نہیں چھوڑا۔
- *امام مالکؒ:* مدینہ کے امام، جنہیں جیل میں اتنا مارا گیا کہ کندھا اتر گیا۔
- *امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ:* جنہوں نے جلاوطنی اور ظلم سہا۔
انہوں نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر یہ علم ہم تک پہنچایا۔ اگر آج ہم ان کو "دو نمبر" کہیں گے تو کل ہمارا دین کہاں جائے گا؟
نبی ﷺ کا فرمان ہے: *"العلماء ورثۃ الانبیاء" علماء انبیاء کے وارث ہیں۔* ائمہ کرام کی توہین دراصل ورثۂ انبیاء کی توہین ہے۔
*چوتھی دلیل: قیامت میں سوال فہم کا ہوگا*
قیامت کے دن یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے قرآن و حدیث کا نام کتنا لیا؟ بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ تم نے قرآن و حدیث کو *کس کے فہم سے سمجھا؟*
صحابہ کے فہم سے؟ تابعین کے فہم سے؟ یا اپنی 2-4 کتابیں پڑھ کر اپنی عقل سے؟
جو شخص صحابہ اور ائمہ کے فہم کو چھوڑ کر اپنی عقل سے قرآن و حدیث سمجھے گا وہ گمراہ ہوگا۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا: *"میری امت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی"*۔ امت 1300 سال سے ان چار ائمہ کے پیچھے چل رہی ہے۔
*خلاصہ کلام:*
ہم قرآن و حدیث کا انکار نہیں کرتے، بلکہ قرآن و حدیث پر چلنے والوں یعنی صحابہ، تابعین اور ائمہ کرام کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔
یہ کہنا کہ "صرف قرآن و حدیث" اور باقی سب کو چھوڑ دو، یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی کہے "مجھے میڈیکل کی کتابیں دے دو، ڈاکٹر کی ضرورت نہیں"۔ کتابیں تو ہیں لیکن سمجھانے والا ڈاکٹر نہ ہو تو مریض مر جائے گا۔
*ائمہ کرام کے راستے پر چلنا ہی اصل قرآن و سنت پر چلنا ہے۔ "دو نمبر" وہ نہیں جو 1400 سال سے دین کی خدمت کر رہے ہیں، "دو نمبر" وہ ہیں جو امت کے عظیم علمی خزانے کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔*
Advertisement
Event venue
Behria Town Karachi, Islamabad, Pakistan, Karachi
Tickets