Advertisement
بزرگ علماء کا تعارف قسط نمبر ۔۔۔17(علامہ سید علی نقی نقوی نقن)
سرکار سید العلماء علامہ سید علی نقی نقوی المعروف نقن صاحب قبلہ مجتہد 26دسمبر 1905 میں لکھنوء میں پیدا ہوئے حوزہ علمیہ لکھنوء سے دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد نجف اشرف تشریف لے گئے جہاں سے 12فقہاء عظام نے اپکو اجازہ اجتہاد سے نواز اور آپ تاج اجتہاد سجا کر واپس وطن تشریف لائے
آپ برصغیر پاک وہند کے معروف عالم دین تھے آپ بہت بلند پایہ خطیب بھی تھے آپکی خطابت کا ایک خاص رنگ تھا جو عبارت آرائ اور نکتہ آفرینی کی بجائے علم اور تحقیق پر مبنی تھا ایک گھنٹہ کی تقریر میں حقائق کے بے شمار دروازے کھل جاتے
نقن صاحب قبلہ عالم ہونے کے ساتھ عربی اردو کے بہت بڑے شاعر بھی تھے اور عربی کے شعراء آپ سے اصلاح لیتے تھے
سرکار نقن صاحب قبلہ نے میر انیس کے مشہور مرثیہ ۔۔جب قطع کی مسافت شب آفتاب نے۔۔کا عربی میں منظوم ترجمہ بھی کیا وہ شعری ترجمہ کمال کا علم و زوق اور زبان پر قدرت کا غیر معمولی نمونہ ہے اور وہ عربی ترجمہ میرے پاس موجود ہے بہت جلد ہی وہ پوسٹ کروں گا انشااللہ۔۔
سرکار سید العلماء علامہ علی نقی نقن صاحب قبلہ بہت بڑے مصنف بھی تھے آپکی کتب و رسائل کی تعداد 141 ہے جنمیں قرآن مجید کی تفسیر ۔۔فصل الخطاب ۔۔7جلدوں پر مشتمل ہے اور آپ نے وقعہ کربلا پر ایک تحقیقی کتاب ںنام۔۔شہید انسانیت ۔۔بھی تحریر فرمائ جسمیں آپ نے منبر پر بیان کی جانی والی کچھ ضعیف روایات پر تنقید کی اور مصائب میں اپنی تحقیق پیش کی جس پر بہت لے دے ہوئی اور وہ کچھ ہوا جو ازل سے اہلیان حق کے خلاف ہوتا ہے جو مظالم سرکار نقن صاحب قبلہ پر ڈھائے گئے میرے خیال میں آج تک کسی عالم پر اس کے بعد وہ کچھ نہیں ہوا
آپکی کتاب شہید انسانیت کو جلایا گیا اور دو واقعات پاکستان میں بھی ہوئے ناصر باغ لاہور اور بہاولپور۔اطکے خلاف پمفلٹ شائع کئے گئے مارکیٹ سے کتاب ضبط کر لی گئ اور مسودہ بھی ضبط کر لیا گیا اور وہ پرنٹنگ پریس بھی جلا دی گئ جس نے کتاب شائع کے تھی علامہ نقن صاحب پر قاتلانہ حملہ بھی کیا گیا اور کچھ عرصہ آپ گھر میں نظر بند بھی رہے اور یہ بھی سنا گیا ہے کہ سرکار کچھ عرصہ کے لئے جلا وطن بھی رہے اور پاکستان آنے پر بھی پابندی رہی بہر حال یہ تو ازل سے ہوتا آیا ہے آپ نے پھر سے شہید انسانیت تحریر فرما کر شائع کرائی جو آج اردو زبان میں سب سے پہلی تحقیقی کتاب ہے جو ہر علم دوست کے پاس موجود ہے اور سیکڑوں ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں البتہ چند روایات جن کی وجہ سے جھگڑا ہوا ہزف کر دی گئیں
علامہ سید اظہر حسن زیدی صاحب خطیب اعظم اپنے ایک انٹرویو میں فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نجف اشرف بغرض زیارت گیا تو وہاں مراجع عظام سے ملاقاتیں بھی ہوئیں جب میں استادالفقہاء آقائے حسین بروجردی کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا تو سامنے والے کمرہ میں کچھ کاغزات کے بنڈل تھے اور دو تین مجتحہدین انکو پڑھ رہے تھے میں نے سوال کیا کہ یہ کون سی کتابوں کے نسورلدےںہیں تو مجھے بتایا گیا کہ برصغیر کے ایک عالم علامہ علی نقی صاحب قبلہ کے مقالات ہیں جن پر نجف میں تحقیق ہو رہی ہے
سرکار نقن صاحب قبلہ بعد میں پاکستان بھی تشریف لاتے رہے لاہور اور کراچی میں عشرہ محرم بھی پڑھے اور ان کے علاوہ ملتان کویٹہ پشاور لاہور کراچی میں مجلاڈ عزاسے بھی خطاب فرماتے رہے
آسمان علم و عمل کا ماہ کامل 18مئ 1988میں غروب ہوا اور لکھنؤ میں سپرد خاک ہوئے اللہ تعالی قبلہ کی قبر مبارک پر اپنی خصوصی رحمتیں نازل فرمائے اور جوار سرکار سید الشہداء علیہ السلام میں مقام عالی و متعالی فرمائے
زبان اور قلم میں عمل کا رشتہ تھا
بشر کے بھیس میں علم کا فرشتہ تھا
تحریر۔۔ندیم عباس شہانی ساکن نوانی ضلع بھکر پنجاب
موبائل وائٹس اپ نمبر ۔۔03471022403
Advertisement
Event Venue
Old Al Ghanim 06, Doha, Qatar
Tickets
Concerts, fests, parties, meetups - all the happenings, one place.





